28 جنوری 2025 - 11:18
بعثت، انسانوں کی نجات کے لئے ایک عظیم تحریک

امیرالمؤمنین کے کلام کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ "اگر صدر اول میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پہلو میں، ہم بھی تمہاری طرح، ـ یعنی ان لوگوں کی طرح جن سے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) مخاطب تھے ـ عمل کرتے، تو ایمان کا عمود [ستون] بپا نہ ہوتا اور [شجرہ] ایمان کی ایک ٹہنی بھی سبز نہ ہوتی، چنانچہ یہ چیزیں [یعنی صحیح فہم و ادراک، ہمت و جرأت، دفاع و تحفظ اور جانفشانی] لازمی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا |

بعثت، انسانوں کی نجات کے لئے ایک عظیم تحریک

امام خامنہ ای فرماتے ہیں: بعثت کا عظیم واقعہ متعدد صدیاں گذرنے اور دنیا بھر کے دانشوروں اور مفکرین کے اظہار خیال کے باوجود، بدستور، مختلف جہتوں سے، قابل غور و تامل ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ) کی بعثت ـ انسانی تاریخ میں انسانوں کی نجات، نفسوں، روحوں اور اخلاقیات کی تہذیب و تزکیے اور ان مسائل اور مصائب کا مقابلہ کرنے کے لئے ـ ایک عظیم تحریک تھی  جن کا بنی نوع انسان کو تمام زمانوں میں سامنا کرنا پڑا تھا اور آج بھی [یہ وہی تحریک] ہے۔ تمام ادیانِ [الٰہی] شر و فساد کے مد مقابل ہیں اور اعلیٰ اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں؛ لیکن اسلام کا دین مقدس اس خصوصیت کا حامل ہے کہ یہ ایک دائمی ابدی نسخہ ہے۔ انسانی حیات کے تمام ادوار اور اعصار کے لئے یہ نسخہ کارساز اور مؤثر ہے۔

اسلام تمام ادوار و اعصار کے لئے ایک شفا بخش نسخہ

جب ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ

"هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ" [1]

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین خاتم اور رسول خاتم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے آنے کے ساتھ ہی ہے انسانوں کے نفوس کا تزکیہ ہو جائے گا، یا بس اب ان کا تزکیہ ہو چکا ہے؛ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بنی نوع انسان، طلوعِ قرآن کے بعد، کمال کی راہ میں بڑھتے ہوئے ظلم و امتیازی رویوں، سنگ دلیوں اور نالائقیوں کا سانا نہیں کرے گا۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور دین اسلام عدل و انصاف کے قیام اور مستضعفین کی نجات اور جاندار اور بے جان بتوں کو توڑنے کی غرض سے عالم وجود میں تشریف فرما ہوئے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس تابندہ سورج کے طلع کے بعد لوگوں کو مزید ظلم و ستم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، ان کو طاغوتوں کا سامنا نہیں ہوگا، اورانسانی زندگی پر بتوں کی حکمرانی نہیں ہوگی۔ حقیقی دنیا میں بھی عیاں ہے کہ طلوع اسلام کے بعد، دنیا کے گوشوں میں ـ حتی کہ اسلامی ماحول کے اندر ـ کچھ عرصے گذرنے کے بعد ـ بت نمایاں ہوئے، طاغوت نمایاں ہوئے، انسانیت پر مظالم ہوئے، اور وہی ناکامیاں ـ جن کا بنی نوع انسان کو ہمیشہ سامنا رہا تھا ـ پھر بھی بنی نوع انسان کے لئے معرض وجود میں آ گئیں۔

تو اس بات کا مطلب ـ کہ بعثت کا آخری [اور حتمی] ہدف اور مقصد انسان کی نجات ہے، ـ کچھ اور ہے۔؛ اس معنی یہ ہیں کہ جو کچھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اسلام نے لوگوں کو عطا کیا، یہ تمام ادوار و اعصار کے لئے ایک شفا بخش نسخہ ہے؛ ایک نسخہ ہے انسانی جہل و نادانی کے خلاف، جبر کے قیام کے خلافث، امتیازی سلوک کے خلاف؛ طاقتوروں کے ہاتھوں کمزوروں کے کچلے جانے کے خلاف؛ ان تمام دکھوں کے خلاف جنہیں نوع انسانی کو ابتدائے تخلیق سے برداشت کرنا پڑا ہے۔ دوسرے تمام نسخوں کی طرح، اس نسخے پر [بھی]، اگر عمل کیا جائے تو نتیجہ خیز ہوگا، اور اگر اسے ترک کیا جائے [اور اس پر عمل نہ کیا جائے]، یا اسے غلط سمجھا جائے یا اس پر عمل کرنے کی ہمت و جرأت نہ ہو تو اس کا نتیجہ کالعدم [اور کچھ بھی نہ] ہوگا۔ بہترین ڈاکٹر اور طبیب اگر صحیح ترین نسخہ بھی آپ کو دے دیں، لیکن آپ اسے نہ پڑھ سکیں، یا اس کو غلط انداز سے پڑھ لیں، یا اس پر عمل نہ کریں  اور یہ نسخہ متروک رہے، تو یہ کسی بیمار کے پر کیا اثر کرے گا؟ اور [اگر آپ عمل نہ کریں تو] اس ماہر طبیب کا کیا قصور ہوگا؟

دین و ایمان کی بقاء میں صدر اول کے مسلمانوں کا کردار

صدیاں گذر گئیں، مسلمان قرآن کو بھول گئے، قرآن کے ترسیم کردہ راہنما اصول زندگیوں سے محو ہو گئے، یا انہیں غلط انداز سے سمجھا گیا، یا انہیں ارادی طور پر تحریف کیا گیا، یا لوگوں نے انہیں سمجھ تو لیا مگر ان میں اقدام اور عمل کی ہمت و جرأت نہیں تھی؛ یا پھر انہوں عمل بھی کیا ایک نتیجہ بھی حاصل ہؤا مگر اس نتیجے کے تحفظ اور نگہداشت کے لئے جانفشانی نہیں کی۔ اگر صدر اول میں بھی لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے کلام کا ادراک نہ کرتے، یا اس پر عمل کرنے کی جرأت و ہمت نہ کرتے، اور ڈر جاتے ـ جیسا کہ ان افراد میں بعض کی طرف قرآن میں اشارہ بھی ہؤا ہے:

"يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا" [2]

یا جو کچھ حاصل ہؤا تھا اگر وہ [مسلمان] اس کے تحفظ کے لئے جانفشانی نہ کرتے، تو اس میں کچھ باقی نہ رہتا۔

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ

"وَلَعَمْرِي لَوْ كُنَّا نَأْتِي مَا أَتَيْتُمْ مَا قَامَ لِلدِّينِ عَمُودٌ وَلاَ اخْضَرَّ لِلإِيمَانِ عُودٌ" [3]

یعنی اگر صدر اول میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پہلو میں، ہم بھی تمہاری طرح، ـ یعنی ان لوگوں کی طرح جن سے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) مخاطب تھے ـ عمل کرتے، تو ایمان کا عمود [ستون] بپا نہ ہوتا اور [شجرہ] ایمان کی ایک ٹہنی بھی سبز نہ ہوتی، چنانچہ یہ چیزیں [یعنی صحیح فہم و ادراک، ہمت و جرأت، دفاع و تحفظ اور جانفشانی] لازمی ہیں۔

عید المبعث دنیا کے تمام انصاف پسندوں کی عید اور امت اسلامیہ کے لئے انتباہ (او ہوشیار باش) کی عید ہے۔

انسانی جہالت کسی بھی زمانے میں قابل تصور ہے

[سوال:] یہ نسخہ کس چیز کے مقابلے ميں آیا ہے؟ انسانی جہالت کے مقابلے میں۔ یہ انسانی جہالت وہ نہیں ہے جن کے مقابلے میں ایجادات اور دریافتوں کو قرار دیا جاتا ہے؛ بلکہ اگر انسان مختلف علوم تک رسائی حاصل کرلے لیکن وہ انسانی روابط کو نہ پہچان سکے، تو وہ جہالت کا شکار ہے۔

اگر انسان سائنس کے عروج تک بھی پہنچے، لیکن حقوق اور احکام کے لحاظ سے انسان کی دو قسموں اور دو طبقوں کا قائل ہو، تو یہ انسان جاہل ہے۔ اگر انسان مادی شعبوں میں ترقی بھی کرے، لیکن اس کی زندگی کی عمارت ظالمانہ ہو [اور ظلم کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہو] لوگوں پر جبر و ستم کی حکمرانی ہو، طاقتور قوتیں کمزوروں کو کچل رہے ہوں؛ دنیا میں معرفت و انسانیت کی روشنی نہ ہو؛ دنیا میں مکر و فریب کا رواج ہو، تو پھر بھی یہ وہی جاہلیت ہے، یہ وہ آفتیں اور مصیبتیں ہیں جو انسان کو بدبختی اور مصیبت سے دوچار کرتی ہیں۔

نہج البلاغہ میں ظہور اسلام اور بعثت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے کے حالات کے بارے میں بہت واضح جملے موجود ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے: "وَالدُّنيَا كَاسِفَةُ النُّورِ ظَاهِرَةُ الغُرورِ؛ [4] ی [اور ظلمانی] اور مکرو فریب سے بھرپور تھی"۔ (یا ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:) "فِى فِتَن دَاسَتْهُمْ بِأَخْفَافِهَا وَوَطِئَتْهُم بِأَظْلافِهَا وَقَامَتْ عَلَى سَنَابِكِهَا" [5] جب بھی لوگوں کو فتنوں سے دوچار کیا جائے، انسانیت کو مشکلات اور ابتدائی مسائل میں ڈبو دیا جائے، اور اس کے راستوں کو بند کر دیا جائے، جب بھی انسان مہذب اور پاک نہ ہو، ظلم ہو، اور یہ ظلم حکم فرمائی کر رہا ہو، بڑی قوتوں کی طرف سے کمزوروں کو جبر کا سامنا ہو، تھا، برادر کُشی ہو، برے اخلاقیات ہوں، وہ دن، وہی دن ہے جب بعثت نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اسی نسخے پر عملدرآمد کرنا چاہئے، یہ نسخہ پرانا اور فرسودہ نہیں ہوتا۔

بعثت میں آیا ہؤا اسلام کا نسخہ دائمی ابدی ہے

یہ کہ جب بھی دنیا میں کوئی اسلامی تحریک دکھائی دینے لگتی ہے، کچھ لوگ کہنا اور لکھنا شروع کرتے ہیں اسلام پرانا ہو گیا، ان باتوں کا زمانہ گذر گیا ہے؛ تو اس کا سبب یا تو اسلام کی حقیقت اور اس کے معطیات و محتویات سے ناواقفیت ہے یا پھر بدنیتی اور تعصب ہے؛ استکبار کے گماشتے، 13 سال کے عرصے سے [6] عرصے سے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کے لئے، اسلام کے خلاف لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں؛ اسی بات کو نمایاں کرکے کہ "یہ سب کُہنہ پرستی (یا قدامت پسندی) ہے اور اس کا تعلق ماضی سے ہے! نہیں، اس کا تعلق ماضی سے نہیں ہے، یہ نوع انسان کے دائمی دردوں (Chronic pains) کا علاج ہے۔ جب تک کہ یہ درد ہونگے، یہ نسخہ بدستور کارآمد اور معتبر رہے گا۔ آج بھی ـ اس حوالے سے کہ شمالی افریقہ میں اور الجزائر میں لوگوں نے ایک اسلامی تحریک کا آغاز کیا ہے، اور اسلام کی طرف رجحان ظاہر کیا ہے، پھر وہی وہی قلم سرگرم ہو گئے ہیں اور وہی باتیں دہرا رہے ہیں، نہیں، یہ باتیں بے جا ہیں۔ بعثت دائمی ہے۔ اسلام کا وہ نسخہ جو بعثت میں آیا ہے، دائمی اور ابدی ہے۔

اسلام، اور بعثت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بنیاد پر اٹھنا، مسلمانوں کے مسائل کا حل ہے

وہ اکثر آفتیں اور مصائب جنہیں جہالت اور عصبیت نے جزیرہ نمائے عرب کے لوگوں پر مسلط کر دیا تھا، آج اسلامی اقوام پر مسلط ہیں۔ غربت، تعلیم سے محرومی، سائنسی پسماندگی اور اندرونی آمریت اور استبدادیت اور استکباری طاقتوں کا تسلط، اور اندرونی اختلافات، اسلامی ممالک میں موجود ہیں۔ آج ایک ارب سے زائد مسلمان دنیا میں رہ رہے ہیں جو دنیا کے واقعات اور اہم عالمی مسائل میں اپنی فیصلہ کن رائے دے سکتے ہیں [اور بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں] لیکن انہیں اتنے سارے اختلافات، اتنے سارے داخلی مسائل، اور انسانوں اور اقوام کے اتنے سارے ابتدائی مسائل کا سامنا ہے، اور اتنی بڑی آبادی ـ جن میں دانشور، سائنسدان، اور علماء اور نمایاں شخصیات بھی ہیں ـ ایک مہمل شیئے بن گئی ہے! آخر کیوں؟ کونسی چیز ان مسائل کا علاج کر سکتی ہے؟ [واحد راہ علاج] اسلام ہے اور یہ کہ ہم بعثت انبیاء کی بنیاد پر اٹھیں [اور متحرک ہو جائیں]۔ [7]

۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔

110



[1]۔ وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں، ان ہی میں سے، ایک رسول سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، (سورہ جمعہ، آیت 2)۔

[2]۔ [منافقین میں سے ایک گروہ] کہتا تھا کہ : ''ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے وہ تو بس (جنگ سے) فرار [ہونا] چاہتے تھے۔ (سورہ احزاب، آیت 13)۔

[3]. نہج البلاغہ، خطبہ 56۔

[4]۔ نہج البلاغہ، خطبہ 89۔

[5]۔ فتنوں نے لوگوں کو روند ڈالا تھا اور اپنے مضبوط کھُروں سے انہیں نابود کر دیا تھا اور (فتن) اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے تھے، لیکن لوگ حیران اور سرگرداں، بے خبر اور فریب خورد تھے۔ (نہج البلاغہ، خطبہ 2)۔

[6]۔ رہبر انقلاب اسلامی کا یہ خطاب 33 سال پرانا ہے۔

[7]۔ حوالۂ مضمون: کتاب "حدیث ولایت"، ج9، صص 237-241۔